جب فرانسیسی جنرل "گورو" نے شام میں قدم رکھا صلاح الدین ایوبی کی قبر پر گیا اور قبر کو لات مار کر کہا: "اٹھو صلاح الدین ہم پھر آ گئے" جب فرانسیسی جنرل "لیوتی" نے مراکش میں قدم رکھا تو یوسف بن تاشفین کی قبر کے پاس گیا اور قبر کو لات مار کر کہا:اے تاشفین کے بیٹے اٹھو ہم تمہارے سرہانے پہنچ گئے ہیں" جب صلیبیوں نے دوبارہ اندلس پر قبضہ کیا تو "الفونسو" نے حاجب منصور کی قبر پر سونے کی چارپائی بچھائی اور بیوی کو لے کر شراب پی کر لیٹ گیا اور کہا: "دیکھو میں نے مسلمانوں کی سلطنت پر قبضہ کر لیا ہے" جب یونانی فوج ترکی میں داخل ہوئی تو یونانی فوج کے سربراہ "سوفوکلس وینیزیلوس" خلافت عثمانیہ کے بانی عثمان غازی کی قبر کے پاس گیا اور کہا: "اٹھو اے بڑی پگڑی والے اٹھو اے عظیم عثمان اٹھو دیکھو اپنے پوتوں کی حالتدیکھو ہم نے اس عظیم سلطنت کا خاتمہ کیا جس کی تم نے بنیاد رکھی تھی ہم تم سے لڑنے آۓ ہیں" یہی اسی یونانی جنرل کی تصویر ہے جو 1920ء میں عثمان غازی کی قبر کے پاس کھڑا ہے کیا اب بھی کسی کو اس بارے میں شبہ ہےدنیا کے سامنے تماش...
Assalam o Alaikum When life gives happiness, understand that your good deeds are being rewarded and when life gives pain, understand that it is time to do good deeds. I pray to Allah Almighty to make us humble, humble and forgiving and to bestow blessings on us. And may Allah grant you success in every test of life with His pleasure and the intercession of His beloved of Prophet Muhammad (Peace Be Upon Him). Protect yourself from the jealousy of the envious
کچھ عرصہ قبل وزیراعظم پاکستان نے قائداعظم بزنس پارک کا افتتاح کرتے ہوئے قوم کو بتایا کہ انہیں احساس ہوا ہے کہ ملکی حکومتی نظام کرپٹ ہے۔ وہ کسی کو آسانی سے کام نہیں کرنے دیتا۔ پیسا لگائو تو کام ہوجاتے ہیں۔ سسٹم کی خرابی کے باعث عوام کی فلاح و بہبود کے منصوبے بھی مکمل نہیں ہوپاتے۔ کرپٹ نظام گوئی نئی بات نہیں اور نہ ہی اسے درست کرنا کوئی ناممکن بات ہے۔ حکومتی نظام کی اصلاح کرنے والے حکمرانوں میں ایک نمایاں نام شیرشاہ سوری کا ہے جو بہترین انتظام حکومت یا گڈگورننس انجام دینے کے ماہر تھے۔ انہوں نے صرف پانچ سال کی قلیل مدت میں حکومت کوعوام کا خدمت گزار بنادیا۔ دور حاضر میں بھی وزیراعظم یا صدر کو اپنی صلاحتیں ظاہر کرنے کی خاطر پانچ سال ملتے ہیں۔ شیرشاہ سوری (متوفی 1545ء)کی مثال سے عیاں ہے کہ اگر کوئی حکمران اپنی مملکت میں گڈگورننس لانا چاہے More Read Here تو پانچ سال کی مدت کافی ہے۔
Comments
Post a Comment