جب ہندوستان میں ’’گڈ گورننس‘‘کا انقلاب آیا
کچھ عرصہ قبل وزیراعظم پاکستان نے قائداعظم بزنس پارک کا افتتاح کرتے ہوئے قوم کو بتایا کہ انہیں احساس ہوا ہے کہ ملکی حکومتی نظام کرپٹ ہے۔ وہ کسی کو آسانی سے کام نہیں کرنے دیتا۔ پیسا لگائو تو کام ہوجاتے ہیں۔ سسٹم کی خرابی کے باعث عوام کی فلاح و بہبود کے منصوبے بھی مکمل نہیں ہوپاتے۔ کرپٹ نظام گوئی نئی بات نہیں اور نہ ہی اسے درست کرنا کوئی ناممکن بات ہے۔ حکومتی نظام کی اصلاح کرنے والے حکمرانوں میں ایک نمایاں نام شیرشاہ سوری کا ہے جو بہترین انتظام حکومت یا گڈگورننس انجام دینے کے ماہر تھے۔ انہوں نے صرف پانچ سال کی قلیل مدت میں حکومت کوعوام کا خدمت گزار بنادیا۔ دور حاضر میں بھی وزیراعظم یا صدر کو اپنی صلاحتیں ظاہر کرنے کی خاطر پانچ سال ملتے ہیں۔ شیرشاہ سوری (متوفی 1545ء)کی مثال سے عیاں ہے کہ اگر کوئی حکمران اپنی مملکت میں گڈگورننس لانا چاہے More Read Here تو پانچ سال کی مدت کافی ہے۔