Posts

Showing posts with the label History

جب ہندوستان میں ’’گڈ گورننس‘‘کا انقلاب آیا

Image
  کچھ عرصہ قبل وزیراعظم پاکستان نے قائداعظم بزنس پارک کا افتتاح کرتے ہوئے قوم کو بتایا کہ انہیں احساس ہوا ہے کہ ملکی حکومتی نظام کرپٹ ہے۔ وہ کسی کو آسانی سے کام نہیں کرنے دیتا۔ پیسا لگائو تو کام ہوجاتے ہیں۔ سسٹم کی خرابی کے باعث عوام کی فلاح و بہبود کے منصوبے بھی مکمل نہیں ہوپاتے۔ کرپٹ نظام گوئی نئی بات نہیں اور نہ ہی اسے درست کرنا کوئی ناممکن بات ہے۔ حکومتی نظام کی اصلاح کرنے والے حکمرانوں میں ایک نمایاں نام شیرشاہ سوری کا ہے جو بہترین انتظام حکومت یا گڈگورننس انجام دینے کے ماہر تھے۔ انہوں نے صرف پانچ سال کی قلیل مدت میں حکومت کوعوام کا خدمت گزار بنادیا۔ دور حاضر میں بھی وزیراعظم یا صدر کو اپنی صلاحتیں ظاہر کرنے کی خاطر پانچ سال ملتے ہیں۔ شیرشاہ سوری (متوفی 1545ء)کی مثال سے عیاں ہے کہ اگر کوئی حکمران اپنی مملکت میں گڈگورننس لانا چاہے    More Read Here تو پانچ سال کی مدت کافی ہے۔

سنہرا اسلامی دور: خلیفہ ہارون الرشید کی زندگی کی کہانی، کتنی حقیقت، کتنا افسانہ

Image
  بی بی سی ریڈیو تھری کی خصوصی سیریز ’سنہرا اسلامی دور‘ کی اس قسط میں پروفیسر جولیا برے نے خلیفہ ہارون الرشید کی شحضیت پر روشنی ڈالی ہے اور بتانے کی کوشش کی ہے اُن کے زمانے کا بغداد کیسا تھا۔ ہارون الرشید کو ایک اچھے اور فن کی قدر کرنے والے حکمران کے طور پر یاد کیا جاتا ہے تاہم اس بات کے بھی کافی شواہد ہیں کہ مستقبل کے بارے میں ان کی ناقص منصوبہ بندی خون خرابے اور افراتفری کا باعث بنی۔ مگر کیسے؟ پڑھیے پروفیسر برے کے اس مضمون میں۔ بی بی سی ریڈیو تھری کی اس سیریز میں سنہ 750 سے سنہ 1258 تک کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اس سیریز میں اس دور کے اہم واقعات اور شخصیات کے علاوہ فن تعمیر، طب کے شعبے میں کام، ایجادات اور فلسفے جیسے مضامین میں اہم پیشرفت کا ذکر ہو گا۔ بی بی سی اُردو نے ریڈیو پر نشر ہونے والی اس سیریز کا ترجمہ کیا ہے۔ ہارون الرشید وہ خلیفہ ہیں جن کے بارے میں سب جانتے ہیں۔ مشہور داستان ’الف لیلی‘ کے خلیفہ۔ مصنف ٹینیسن کے نیک دل ہارون الرشید۔۔۔ لیکن ہم اُن کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟ ہمارے خیال میں ہم جانتے ہیں کہ ان کا دور خلافت کا ’سنہرا دور‘ تھا۔ Read More

Ummah needs khilafah, Khilafah Will Rise Again

Image
‏جب فرانسیسی جنرل "گورو" نے شام میں قدم رکھا صلاح الدین ایوبی کی قبر پر گیا اور قبر کو لات مار کر کہا: "اٹھو صلاح الدین ہم پھر آ گئے" جب فرانسیسی جنرل "لیوتی" نے مراکش میں قدم رکھا تو یوسف بن تاشفین کی قبر کے پاس گیا اور قبر کو لات مار کر کہا:‏اے تاشفین کے بیٹے اٹھو ہم تمہارے سرہانے پہنچ گئے ہیں" جب صلیبیوں نے دوبارہ اندلس پر قبضہ کیا تو "الفونسو" نے حاجب منصور کی قبر پر سونے کی چارپائی بچھائی اور بیوی کو لے کر شراب پی کر لیٹ گیا اور کہا: "دیکھو میں نے مسلمانوں کی سلطنت پر ‏قبضہ کر لیا ہے" جب یونانی فوج ترکی میں داخل ہوئی تو یونانی فوج کے سربراہ "سوفوکلس وینیزیلوس" خلافت عثمانیہ کے بانی عثمان غازی کی قبر کے پاس گیا اور کہا: "اٹھو اے بڑی پگڑی والے اٹھو اے عظیم عثمان اٹھو دیکھو اپنے پوتوں کی حالت‏دیکھو ہم نے اس عظیم سلطنت کا خاتمہ کیا جس کی تم نے بنیاد رکھی تھی ہم تم سے لڑنے آۓ ہیں" یہی اسی یونانی جنرل کی تصویر ہے جو 1920ء میں عثمان غازی کی قبر کے پاس کھڑا ہے کیا اب بھی کسی کو اس بارے میں شبہ ہے‏دنیا کے سامنے تماش...

کشمیر کے انڈیا سے الحاق کے آخری دنوں کی کہانی: مہاراجہ پر کیا دباؤ تھا؟

Image
 کشمیر کے انڈیا سے الحاق کے آخری دنوں کی کہانی: مہاراجہ پر کیا دباؤ تھا؟ کشمیری قانونی تاریخ پر میرے پچھلے آرٹیکل میں ہم نے 1846  کی امرتسر سیل ڈیڈ، معاہدہ امرتسر کے بارے میں بات کی، کس طرح اس معاہدے کی وجہ سے کشمیر میں ڈوگرا سلطنت قائم ہوئی کشمیر ایک سیاسی طور پر مستحکم رجواڑا بنا ۔ Start Here